2 اپریل 2012 - 19:30

لبنان کی سیاسی شخصیتوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیاں سے ملاقات میں مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کی اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کوسراہا ہے۔

ابنا: لبنان کے سابق وزیر اعظم سلیم الحص نے عبداللھیاں سے ملاقات میں ملت فلسطین کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کو ایران سے تعلقات بڑھانے کے لئے جلد از جلد اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک صیہونی حکومت کو تحفظ دینے کے لئے ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن ایران نے تین دہائيوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ مغرب کے سامنے ڈٹے رہنے کی توانائي رکھتا ہے۔ اس ملاقات میں عبداللھیان نے کہا کہ دشمن مزاحمت کے محاذوں کو کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے لیکن تہران اس بات پر یقین رکھتا ہےکہ مزاحمت کے محاذ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے لبنان کی دروزی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ طلال ارسلان سے بھی ملاقات کی۔ طلال ارسلان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کی حمایت کو نہایت اہمیت کا حامل قراردیا ۔ ادھر لبنان کے سابق صدر امیل لحود نے امیر عبداللھیان سے ملاقات میں کہاکہ لبنان کو عملی اقدامات کرتے ہوئے مختلف علمی اور سائنسی میدانوں میں ایران کے تجربوں سے فائدہ اٹھا نا چاہیے۔ امیل لحود نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک بڑا اور طاقتور ملک ہے اور دشمن کبھی بھی ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہوگا۔ یاد رہے لبنان کی حزب توحید عربی کے سربراہ نے بھی عبداللھیان سے ملاقات میں کہا کہ لبنان خود کو مزاحمتی محاذ میں شامل سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جاری بدامنی عراق میں امریکہ کی شکست کا نتیجہ ہے اور امریکہ کسی اسلامی ملک کو نقصان پہنچا کر اپنی اس شکست پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش میں ہے۔....... /169